پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...
سکیورٹی اداروں کو دھمکیاں، عدالت نے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو 34 سال قید کی سزا سنادی Threats to the security agencies, the court sentenced former Chief Minister Gilgit-Baltistan to 34 years in prison گلگت کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق وزیر اعلیٰ جی بی کے خلاف سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سابق وزیر اعلیٰ کو 34 سال قیدکی سزا سنائی، عدالت نے خالد خورشید پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔ A case of threatening dire consequences against former Chief Minister GB was heard in the Anti-Terrorism Court of Gilgit. The court sentenced the former chief minister to 34 years in prison after being found guilty, the court also imposed a fine of 6 lakh rupees on Khalid Khurshid. عدالت نے آئی جی پولیس کو حکم دیا کہ مجرم کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا جائے، اس کے علاوہ مجرم کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ واضح رہےکہ سابق وزیراعلیٰ پر 26 مئی 2024 کو جلسے میں سکیورٹی اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے کا الزام تھا۔اس ...