https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-5180289520538836/sites/detail/url=punjabupdatesnews4.blogspot.com امریکہ نے دبائو ڈالا تو کیا پاکستان ٹرمپ کے سامنے جھک کر عمران کو رعایتیں دے Skip to main content

کیا سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ کے پاکستان آنے سے ٹکٹ سستے ہو جائیں گے؟

  سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ فروری 2025 سے پاکستان کے لیے اپنے آپریشنز کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ 2021 میں سعودی عرب میں شروع ہونے والی ایک بجٹ اور سستی ایئر لائن ہے جس نے گذشتہ برس پاکستانی عازمین حج کے لیے بھی اپنی سروسز فراہم کی تھیں اور فی الحال بین الاقوامی سطح پر اس کے سعودی عرب کے علاوہ مختلف ممالک میں آپریشنز جاری ہیں۔ ’فلائی آ ڈیل‘ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر اپنے آپریشنز کو بڑھانے کا ایک وسیع سلسلہ ہے اور یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے پہلی باقاعدہ سروس کی شروعات ہو گی۔ ای ئ ر لائن کی ویب سائٹ کے مطابق  تین فروری کو پہلی فلائٹ جدہ سے پاکستان کے کراچی ایئر پورٹ کے لیے مقامی وقت   رات دو بج کر 45 منٹ پر پرواز کرے گی۔ پاکستان میں سول ایوی ایشن کے ترجمان اور ڈائریکٹر ایوی ایشن سکیورٹی شاہد قادرنے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ’فلائی آ ڈیل‘ کو پاکستانی حکام کی طرف سے اجازت نامہ مل چکا ہے اور وہ ہفتے میں دو دن کراچی اور دو دن لاہور سے  جدہ اور ریاض کے لیے اپنی سروسز فراہم کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ نئی سروس اس بات کی علامت ہے...

امریکہ نے دبائو ڈالا تو کیا پاکستان ٹرمپ کے سامنے جھک کر عمران کو رعایتیں دے

 امریکہ نے دبائو ڈالا تو کیا پاکستان ٹرمپ کے سامنے جھک کر عمران کو رعایتیں دے گا یا ڈٹ کر کھڑا ہو جائے گا؟ بلاول کا بیانیہ یہ بتا رہا ہے کہ ریاست دبائو کی صورت میں ڈٹ سکتی ہے



خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد پاکستان غیر متعلق ہو چکا تھا۔ امریکی تھنک ٹینکس کا خیال تھا کہ پاکستان قابل اصلاح نہیں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اس کا علاج صرف یہ ہے کہ یہ آکسیجن ٹینٹ میں رہے، نہ مرے نہ جیے، بس سانس لیتا رہے۔ معیشت کی رسی کس کر رکھی جائے تاکہ یہ خود ہی اپنی نیوکلیئر اور جہادی پالیسیوں سے توبہ تائب ہو جائے۔ جنرل باجوہ مغربی دنیا میں وقت گزار چکے تھے اس لئے انہوں نے اپنے دور میں مغربی دنیا کو ناراض کرنے والی پروچائنہ پالیسی کی رفتار کم کردی۔ جنرل باجوہ کے آنے سے پہلے پاکستان تیزی سے چینی کیمپ میں جا رہا تھا اور امریکہ کا خیال تھا کہ یہ برما کی طرح چینی کالونی یا سیٹلائٹ بننے جا رہا ہے چنانچہ باجوہ، عمران دور میں امریکی تحفظات دور کردیئے گئے، سی پیک پر توجہ اور ترجیح ختم کردی گئی اور امریکہ کے ساتھ معاملات میں بہتری آگئی لیکن امریکہ نے پاکستان کو کسی بھی طرح کی امداد دینے سے گریز کیا۔ اس دوران پاکستان خاموشی، تنہائی اور بے اعتنائی کا شکار رہا۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ کئی دہائیوں سے دنیا کے نقشے میں سرگرم ترین ملک اچانک سرد مہر کیسے رہ سکتا ہے؟ دو عالمی افغان جنگوں میں مرکزی کردارکا مالک زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتا۔ موقع کا انتظار تھا اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نئے عالمی ماحول میں پھر سے سر اٹھانے لگا ہے مگر 75 سال ہم امریکی کیمپ میں کرائے کے سپاہی رہے ہیں اور اس کے فوائدسمیٹتے رہے ہیں لیکن اب ہم اپنے بازو کے پٹھے پُھلا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کا بیانیہ، ’’عمران ایک بہانہ، ایٹمی پروگرام اصل نشانہ‘‘دراصل نئی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے۔ اگر صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے دبائو ڈالا تو پاکستان بھی للکار سے جواب دے گا۔


بلاول بھٹو اس وقت کے نوجوانوں میں سوجھوان شمار ہوتے ہوئے ہیں بیرونی تعلیم، خاندانی تربیت اور سیاسی روایات کے حامل ہوتے ہوئے انہوں نے وزیر خارجہ رہنے کا تجربہ بھی حاصل کرلیا ہےبطور وزیر خارجہ انہوں نے سعودیوں، امریکیوں اور بہت سےملکوں کے سفارت کاروں میں اپنے چاہنے والے بھی پیدا کرلئے ان سے صرف اسرائیلی اور بھارتی وزارت خارجہ ناراض ہوئی۔ پاکستانی مقتدرہ سے چھوٹے موٹے اختلاف کے باوجود وہ مجموعی طور پر ریاستی بیانیے کو بین الاقوامی طور پر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اسی لئے میرا خیال ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر بلاول بھٹو کا امریکہ کو جواب ریاستی بیانیہ ہوسکتا ہے۔ یہ بدلتا بیانیہ پاکستان پر کس کس طرح سے اثر انداز ہوگا اس کیلئے پورے پاکستان کو تیار ہونا ہوگا۔


گزشتہ روز لاہور میں 8فروری کے الیکشن کے بعد پہلی بار ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ایک بہت بڑی سیاسی تقریب ہوئی ہوٹل کا سب سے بڑا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ موقع خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے والد خواجہ رفیق کی سالانہ برسی کا تھا۔ مگر یہ ایک سیاسی میلہ بن گیا جس میں مذاکرات کے حوالےسے نونی موقف کھل کر سامنے آیا۔ میرے بشمول مجیب الرحمٰن شامی صاحب، رانا ثنا اللہ صاحب اور جناب ایاز صادق صاحب، سب نے مصالحت، مفاہمت اور مستقبل کے امکانات پر بات کی ،سب سے دلچسپ اور دلپذیر تقریر وزیر دفاع خواجہ آصف کی تھی انہوں نے رومن مقرر سیسرو کی طرح ڈرامائی انداز میں نون لیگ کا اندرونی موقف بیان کیا وہ بار بار سامعین سے سوال کرتے رہے کہ 26 نومبر تک تو تحریک انصاف انقلاب لانا چاہتی تھی ہم سے بات تک نہیں کرنا چاہتی تھی اب یکا یک مذاکرات پر کیوں تیار ہوگئی ہے۔ ایک ماہر مقرر کی طرح وہ سامعین سے بار بار سوال پوچھتے رہے کہ پندرہ دن میں کیا ہوا ہے؟ سامعین میں سے ایک نے جواب میں کہا ڈنڈا۔ تو خواجہ صاحب نے فوراً فی البدیہہ جواب دیا کہ میں یہ نہیں سمجھتا ،یہ آپ کی رائے ہے۔ بار بارسوال دہرانے کے باوجود خواجہ آصف نے خود بھی سامعین کو یہ نہیں بتایا کہ پندرہ دن میں ہوا کیا ہے تاہم آخر میں انہوں نے انکشاف کرکے اپنی سوچ واضح کردی کہ نہ مجھ سے مذاکرات پر مشورہ کیا گیا ہے اور نہ مجھے مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے پھر مسکراتے ہوئے کہا دیکھنا ان کے مذاکرات میں کوئی چال ہے، محتاط رہنا ان کی چال میں نہ آنا۔ خواجہ آصف کی تقریر سے واضح ہوگیا کہ ’’نون‘‘ بہت محتاط ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کے مذاکرات ایک بہانہ ہیں اصل میں اب وہ سازش کرکے ہماری جگہ لینا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی مذاکرات اس لئے کر رہی ہے کہ بیرونی دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ایک سیاسی پارٹی ثابت کرسکے اور یہ تاثر دے کہ ہم دبائو اور تشدد کے باوجود مذاکرات پر آمادہ ہیں دوسری طرف نون میں یہ تاثر ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کو فوجی عدالت سے 9 مئی اور 26نومبر کے واقعات کی سزا ملنا ضروری ہے۔خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ کی رائے تھی کہ اگر سنجیدہ مذاکرات کرنے ہیں تو نواز شریف، زرداری، فضل الرحمٰن اور عمران خان کے ہونے چاہئیں مقتدرہ اور عدلیہ کو بھی ان مذاکرات کا حصہ ہونا چاہئے۔


بلاول کے امریکہ مخالف بیانیے اور خواجہ سعد رفیق کے اعلامیے میں بظاہر کوئی قدر مشترکہ نہیں مگر اصل میں یہی دونوں آنے والے سال میں پاکستا ن کے دو اہم ترین مسئلے ہوں گے۔ امریکہ نے دبائو ڈالا تو کیا پاکستان ٹرمپ کے سامنے جھک کر عمران کو رعایتیں دے گا یا ڈٹ کر کھڑا ہو جائے گا؟ بلاول کا بیانیہ یہ بتا رہا ہے کہ ریاست دبائو کی صورت میں ڈٹ سکتی ہے جبکہ خواجہ رفیق کی یاد میں ہونے والی کانفرنس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ ابھی ن اور پی ٹی آئی کی آپسی لڑائی کے زخم مندمل نہیں ہوئے، جب تک ان زخموں پر پھاہا نہیں رکھا جاتا، جب تک ایک دوسرے سے معافی نہیں مانگی جاتی، معذرت نہیں کی جاتی مذاکرات کا کوئی بڑا نتیجہ نکلنا ممکن نہیں۔


فی الحال مقتدرہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دن رات محنت اور مشکل ترین حالات میں کام کرنے پر ان کو سراہ رہی ہےاور انہیں یہ اعتماد دیا جا رہا ہے کہ معاشی حالات بہتر ہونے کے بعد آپ سیاست میں بھی بہتری لا سکتے ہیں، مقتدرہ کی طرف سے فی الحال خان کو کوئی رعایت ملنے کا امکان نہیں، رعایت ملی بھی تو مکمل خاموشی اور موجودہ نظام کو تسلیم کرنے کی سخت شرط پر ملے گی۔بلاول کا بیانیہ مقبول تو ہوگا مگر اس میں خطرات بھی بہت ہیں سپرپاور سے لڑائی اور مخالفت بہت مہنگی پڑ سکتی ہے کمزور معیشت اور اندرونی سیاسی، مذہبی اور علاقائی لڑائیاں پاکستان کے بہت بڑے مسائل ہیں، کوئی بڑی کشمکش ہوئی تو پاکستان کی فالٹ لائنز کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔ مناسب ہوگاکہ اندرونی مصالحت اور بیرونی ڈائیلاگ کو ذریعہ بنا کر مشکلا ت سے نکلا جائے۔





Comments

Popular posts from this blog

انڈیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو پاکستان اور بابر اعظم سے امیدیں

 عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔ انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان  دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے می...

عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence

 انڈین کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے انڈین فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ کارنامہ اپنے 44 ویں میچ میں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ لے کر انجام دیا ہے۔ Indian cricket team's fast bowler Jasprit Bumrah has become the first Indian fast bowler to take 200 wickets in the fewest Test matches. He has accomplished this feat in his 44th match by taking the wicket of Travis Head  سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کے نام ہے جنھوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے سپنر آر ایشون نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ The record of taking 200 wickets in the least number of Test matches is in the name of Pakistan's spinner Yasir Shah, who has achieved this feat in 33 Test matches, while Indian spinner R Ashwin has taken 200 wickets in 37 Test matches. جہاں تک فاسٹ بولروں کے سب سے کم ٹیسٹ میں 200 وکٹ لینے کا سوال ہے تو وقار یونس اور ڈینس للی کے نام یہ ریکارڈ ہے جنھوں نے 3...

آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو مسخرہ قرار دے دیا

 آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو مسخرہ قرار دے دیا جبکہ بھارتی میڈیا نے مسخرہ قرار دینا ویرات کوہلی کی بے عزتی کرنا کہا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ روز آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان باکسنگ ڈے ٹیسٹ کا پہلا روز تھا اور آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے 19 سالہ نوجوان بیٹر سیم کونسٹاس سے جان بوجھ کر ٹکرائیں اور اپنا کندھا انہیں مارا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیم کونسٹاس کے بھارتی بولر جسپریت بمرا کے خلاف غیر معمولی شاٹس کوہلی سے برداشت نہ ہوئے۔ انہوں نے کونسٹاس کا اعتماد اور توجہ ہٹانے کے لیے نہ صرف ان پر جملے کسے بلکہ جان بوجھ کر ٹکرا ئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویرات کوہلی پر 20 فیصد میچ کا جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کی سزا دی۔ مگر آسٹریلوی میڈیا ویرات کوہلی کو دی جانے والی سزا سے خوش نہیں تھا اور آسٹریلوی میڈیا نے کم ازکم ایک میچ کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ سابق آسٹریلوی کرکٹرز نے بھی ویرات کوہلی کو دی جانے والی سزا کو سخت قرار نہیں دیا۔ ایک آسٹریلوی اخبار نے مسخرہ کوہلی کی ہیڈ لائن لگائی ہے جبکہ ویرات کوہلی کے عمل پر اُنہیں بزدل اور رونے وال...