https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-5180289520538836/sites/detail/url=punjabupdatesnews4.blogspot.com عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence Skip to main content

عمران خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک سوال

 پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...

عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence

 انڈین کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے انڈین فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ کارنامہ اپنے 44 ویں میچ میں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ لے کر انجام دیا ہے۔

Indian cricket team's fast bowler Jasprit Bumrah has become the first Indian fast bowler to take 200 wickets in the fewest Test matches. He has accomplished this feat in his 44th match by taking the wicket of Travis Head


 سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کے نام ہے جنھوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے سپنر آر ایشون نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے رکھی ہیں۔

The record of taking 200 wickets in the least number of Test matches is in the name of Pakistan's spinner Yasir Shah, who has achieved this feat in 33 Test matches, while Indian spinner R Ashwin has taken 200 wickets in 37 Test matches.

جہاں تک فاسٹ بولروں کے سب سے کم ٹیسٹ میں 200 وکٹ لینے کا سوال ہے تو وقار یونس اور ڈینس للی کے نام یہ ریکارڈ ہے جنھوں نے 38 ٹیسٹ میچوں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ ڈیل سٹین، مارشل، باتھم اور ایلن ڈونلڈ بھی بمراہ سے آگے ہیں۔

As far as the question of taking 200 wickets in the shortest test by fast bowlers is concerned, this record is held by Waqar Younis and Dennis Lillee, who have accomplished this feat in 38 Test matches, while Dale Steyn, Marshall, Batham and Alan Donald are also from Bumrah. are ahead

لیکن وکٹ لینے کی اوسط حیرت انگیز طور پر بمراہ کی بہتر ہے اور انھوں 20 رنز سے بھی کم کی اوسط سے یہ وکٹیں لی ہیں۔ بعض ناقدین اس کی وجہ ان کے بولنگ ایکشن کو قرار دیتے ہیں اور یہی ان کا طرۂ امتیاز بھی ہے۔

But Bumrah's wicket-taking average is surprisingly better and he has taken these wickets at an average of less than 20 runs. Some critics attribute this to his bowling action and this is also his distinguishing feature

ایک وقت تھا جب بمراہ کے بولنگ ایکشن پر سوالات اٹھائے گئے تھے لیکن بمراہ نے اسے ٹھیک کرنے کے بجائے وکٹیں لینے کا سلسلہ جاری رکھا اور آج انھیں دنیا کے مشکل ترین بالروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

There was a time when questions were raised about Bumrah's bowling action but instead of fixing it, Bumrah continued to take wickets and today he is regarded as one of the toughest bowlers in the world.

انڈین ٹیم کے ڈریسنگ روم میں ’جسی بھائی‘ کے نام سے پکارے جانے والے بمراہ نے مختلف فارمیٹس میں ٹیم کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے۔۔

Bumrah, who is known as 'Jasi Bhai' in the dressing room of the Indian team, has played a major role for the team in various formats.

انھوں نے کہا کہ ’بمراہ نہ صرف عظیم بولر ہیں بلکہ عمران خان، گاوسکر اور کپل دیو کی طرح انھوں نے فیلڈ میں کوئی ایسی حرکت نہیں کی جیسی کہ ابھی حال ہی جیسوال یا پچھلے میچ میں وراٹ کوہلی نے کی تھی۔‘

He said that 'Bumrah is not only a great bowler but like Imran Khan, Gavaskar and Kapil Dev, he has not done anything on the field like Jaiswal did recently or Virat Kohli in the last match.'

 بمراہ مستقل وکٹیں لے رہے ہیں اور یہ بہت ہی حیران کن ہے کہ ان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں محض 295 وکٹیں ہیں جن میں سے 203 وکٹیں انھوں نے ٹیسٹ میں لی ہیں۔ اور ان کے خیال میں ’شاید ہی کوئی دوسرا ایسا بولر ہے جن کی ٹیسٹ میں وکٹوں کی تعداد اس تناسب میں ہو۔‘

Bumrah is a consistent wicket-taker and it is quite surprising that he has just 295 wickets in first-class cricket, of which 203 have come in Tests. And in his opinion, there is hardly any other bowler whose number of wickets in Tests is in this proportion

انھوں نے مزید کہا کہ نہ صرف ٹیسٹ میں بلکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں بھی ان کی پرفارمنس بہت اچھی ہے اور بطور خاص ’ٹی ٹوئنٹی میں تو وہ ناقابل یقین حد تک خطرناک ہیں۔‘

He added that not only in Tests, but also in ODIs and T20Is, his performance is very good and especially in T20Is, he is incredibly dangerous.

                                                     وقار یونس سے موازنہ

Comparison with Waqar Younis



جسپریت بمراہ نے سب سے کم رنز دے کر نہ صرف 200 وکٹیں حاصل کیں بلکہ ان کا سٹرائیک ریٹ بھی بہت بہتر ہے۔

بمراہ نے 42.1 کے سٹرائیک ریٹ سے 200 وکٹیں حاصل کیں۔ اس معاملے میں صرف جنوبی افریقی بولر کھگیسو ربادا ان سے آگے ہیں۔ اپنے عروج کے زمانے میں پاکستان کے بولر وقار یونس کا سٹرائک ریٹ سب سے اچھا ہوا کرتا تھا جس کا ذکر سوشل میڈیا پر بھی ہو رہا ہے۔

Jasprit Bumrah not only got 200 wickets by giving the least runs but his strike rate is also very good.


Bumrah took 200 wickets at a strike rate of 42.1. Only South African bowler Khagesu Rabada is ahead of him in this regard. During his prime, the strike rate of Pakistan bowler Waqar Younis used to be the best, which is also being mentioned on social media.

رواں سال بمراہ نے 13 میچوں میں 71 وکٹیں 30.1 کے سٹرائیک ریٹ سے لی ہیں اور وہ اس معاملے میں صرف وقار یونس سے پیچھے ہیں جنھوں نے سنہ 1993 میں سات میچوں میں 29.5 کے سٹرائیک ریٹ سے 55 وکٹیں لی تھیں۔

 This year, Bumrah has taken 71 wickets in 13 matches at a strike rate of 30.1 and he is behind only Waqar Younis who took 55 wickets in seven matches at a strike rate of 29.5 in 1993.



Comments

Popular posts from this blog

عمران خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک سوال

 پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...

انڈیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو پاکستان اور بابر اعظم سے امیدیں

 عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔ انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان  دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے می...