https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-5180289520538836/sites/detail/url=punjabupdatesnews4.blogspot.com محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد گئے تو گئے کہاں؟ Skip to main content

کیا سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ کے پاکستان آنے سے ٹکٹ سستے ہو جائیں گے؟

  سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ فروری 2025 سے پاکستان کے لیے اپنے آپریشنز کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ 2021 میں سعودی عرب میں شروع ہونے والی ایک بجٹ اور سستی ایئر لائن ہے جس نے گذشتہ برس پاکستانی عازمین حج کے لیے بھی اپنی سروسز فراہم کی تھیں اور فی الحال بین الاقوامی سطح پر اس کے سعودی عرب کے علاوہ مختلف ممالک میں آپریشنز جاری ہیں۔ ’فلائی آ ڈیل‘ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر اپنے آپریشنز کو بڑھانے کا ایک وسیع سلسلہ ہے اور یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے پہلی باقاعدہ سروس کی شروعات ہو گی۔ ای ئ ر لائن کی ویب سائٹ کے مطابق  تین فروری کو پہلی فلائٹ جدہ سے پاکستان کے کراچی ایئر پورٹ کے لیے مقامی وقت   رات دو بج کر 45 منٹ پر پرواز کرے گی۔ پاکستان میں سول ایوی ایشن کے ترجمان اور ڈائریکٹر ایوی ایشن سکیورٹی شاہد قادرنے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ’فلائی آ ڈیل‘ کو پاکستانی حکام کی طرف سے اجازت نامہ مل چکا ہے اور وہ ہفتے میں دو دن کراچی اور دو دن لاہور سے  جدہ اور ریاض کے لیے اپنی سروسز فراہم کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ نئی سروس اس بات کی علامت ہے...

محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد گئے تو گئے کہاں؟

 


کہا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران راجہ ڈاہر کو جب اُموی سالار محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُن کی دو بیٹیوں سوریا اور پریمل کو محمد بن قاسم نے راجہ کی ہلاکت کے بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کے پاس دارالخلافہ بغداد روانہ کر دیا۔

خلیفہ ولید بن عبدالملک نے جب بڑی بیٹی سوریا سے خلوت کا ارادہ کیا تو سوریا نے چال چلی اور خلیفہ سے کہا کہ محمد بن قاسم پہلے ہی اُن کے ساتھ خلوت اختیار کر چکا ہے چنانچہ وہ اب خلیفہ کے شایانِ شان نہیں رہیں۔

غصے میں خلیفہ کو تحقیق کا ہوش نہیں رہا اور اُنھوں نے اسی وقت محمد بن قاسم کے نام پروانہ جاری کیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں خود کو کچی کھال میں سلوا کر دارالخلافہ کو واپس ہوں

محمد بن قاسم نے ایسا ہی کیا اور دارالخلافہ کے راستے میں ہی دو دن بعد اُن کی موت ہو گئی۔

یہ کہانی کتاب فتح نامہ سندھ عرف چچ نامہ میں بیان کی گئی ہے۔

روایت کے مطابق اس کے بعد راجہ ڈاہر کی بیٹی کا ایک طویل خطاب ہے جس میں وہ محمد بن قاسم کی عادل حکمرانی کی گواہی دیتی ہیں مگر اُن کی ہلاکت کی سازش رچنے کو اپنے والد کا بدلہ قرار دیتی ہیں۔

اسی خطاب میں وہ محمد بن قاسم کے بارے میں بھی کہتی ہیں کہ اُنھیں فرمانبرداری میں بھی عقل سے کام لینا چاہیے تھا اور خلیفہ کو بھی کہتی ہیں کہ اُسے بھی سنی سنائی بات پر اتنا سخت حکم جاری کرنے سے قبل تحقیق کر لینی چاہیے تھی۔

چچ نامہ کے مطابق راجہ ڈاہر کی بیٹی نے کہا: دانا بادشاہِ وقت پر واجب ہے کہ جو کچھ بھی دوست یا دشمن سے سنے، اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھے اور دل کے فیصلوں سے اس کا موازنہ کرے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ پاک دامنی کے اعتبار سے محمد بن قاسم ہمارے لیے باپ اور بھائی جیسا تھا اور ہم کنیزوں پر اس نے کوئی دست درازی نہیں کی۔ لیکن چونکہ اُس نے ہند اور سندھ کے بادشاہ (راجہ ڈاہر) کو برباد کیا تھا اس لیے ہم نے انتقاماً خلیفہ کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔

اس پر خلیفہ نے غضب ناک ہو کر دونوں بہنوں کو دیوار میں چُن دینے کا حکم دیا۔

اور محمد بن قاسم اور راجہ ڈاہر کی بیٹیوں کی ہلاکت سے متعلق اس پوری کہانی پر بھی مؤرخین کو اعتراضات ہیں۔

تو پھر محمد بن قاسم کی موت  کیسے ہوئی اور مندرجہ بالا واقعے کی تاریخی حقیقت کیا ہے، اس پر بات کریں گے لیکن اس سے پہلے کچھ محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد اور فتوحات کا تذکرہ کرتے ہیں اور پھر یہ دیکھیں گے کہ محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد گئے تو گئے کہاں؟

محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی ’مبینہ‘ قبریں بلوچستان میں

اگر آپ کراچی سے گوادر جانا چاہتے ہیں تو آپ پہلے تو آر سی ڈی ہائی وے پر کوئی دو گھنٹے کی ڈرائیو کریں گے جس کے بعد بائیں جانب مکران کوسٹل ہائی وے کا آغاز ہوتا ہے جو اپنے آپ میں حیرتوں سے بھرپور سڑک ہے۔

یہیں پر تھوڑا آگے جا کر بائیں جانب ایک پتھر کی تختی پر لکھا ہے کہ یہاں فاتحِ سندھ محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں موجود ہیں۔

نامور مصنف و محقق سلمان رشید کے مطابق یہ قبریں محمد بن قاسم کے ساتھیوں کی نہیں ہیں کیونکہ آٹھویں صدی میں عرب سندھ کے چوکنڈی قبرستان جیسی نقش و نگار سے مزیّن قبریں نہیں بنایا کرتے تھے، اور ویسے بھی قبروں کا یہ طرزِ تعمیر تقریباً سولہویں صدی کا قرار دیا جاتا ہے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق یہ قبریں اٹھارہویں صدی کے وسط سے تعلق رکھتی ہیں اور اس کا تذکرہ منان احمد آصف نے اپنی کتاب ’اے بُک آف کونکوئسٹ‘ میں بھی کیا ہے۔

مگر پاکستان میں محمد بن قاسم سے متعلق متنازع باتوں میں سے یہ صرف ایک بات ہے۔

مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں اکثر و بیشتر یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد اُسی دن پڑ گئی تھی جس دن محمد بن قاسم نے سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔

محمد بن قاسم اُموی دورِ حکومت کے وہ سالار تھے جنھوں نے 712 سنِ عیسوی میں سندھ پر حملہ کیا اور یہاں کے راجہ ڈاہر کو شکست دی۔

بعض مؤرخین کے نزدیک محمد بن قاسم کے آنے سے جنوبی ایشیا میں اسلامی دور کا آغاز ہوا، سندھ فتح ہوا اور یوں واقعات کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر پاکستان کے قیام پر منتج ہوا۔

مگر مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق پیغمبرِ اسلام کی آمد سے قبل بھی عرب تاجر برِصغیر میں رہائش پذیر تھے اور کچھ کے نزدیک یہاں کی مقامی خواتین سے شادیاں تک کر رہے تھے۔

کتاب ’دی گریٹ مغلز اینڈ دیئر انڈیا‘ میں مصنف ڈرک کولیئر اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ انڈیا کے جنوب مغرب میں مالابار کے ساحلی علاقے (موجودہ کرناٹک اور کیرالہ) میں عرب تاجر یہاں پہلے سے مقیم تھے اور جب خطہ عرب میں اسلام آیا تو ممکنہ طور پر ان عربوں نے بھی اسلام قبول کیا ہو گا۔

اپنی کتاب کے ابتدائیے میں اُنھوں نے خطہ برِصغیر میں اسلام کے پھیلنے کے حوالے سے متعدد نظریات کا ذکر کیا ہے جس میں ہجرت، تلوار، خوف، صوفیا کے عمل اور تبلیغ، سماجی رتبے کے حصول اور پرامن روابط مثلاً تجارت اور باہمی شادیاں شامل ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے (چند) واقعات کا انکار تو نہیں کیا جا سکتا، تاہم کئی دیگر علاقوں مثلاً مالابار کے ساحلوں میں اسلام کی کامیابی کا تعلق جبر یا مسلمانوں کی عسکری اور سیاسی برتری سے نہیں تھا۔

اس کے علاوہ اُن کے نزدیک نئے مذہب کے مضبوط اور مساوات پر مبنی پیغام کا اثر بالخصوص نچلی ذات کے افراد پر ضرور ہوا ہو گا۔

چنانچہ وہ اس علاقے میں پہلے سے عربوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے 712 عیسوی میں محمد بن قاسم کی آمد سے کہیں قبل برِصغیر میں اسلام کی آمد کا عرصہ متعین کرتے ہیں۔

لہٰذا پاکستان کی درسی کُتب میں عام طور پر پڑھائے جانے والے بیانیے کے برعکس تاریخی بیانیے بھی موجود ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

انڈیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو پاکستان اور بابر اعظم سے امیدیں

 عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔ انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان  دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے می...

عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence

 انڈین کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے انڈین فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ کارنامہ اپنے 44 ویں میچ میں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ لے کر انجام دیا ہے۔ Indian cricket team's fast bowler Jasprit Bumrah has become the first Indian fast bowler to take 200 wickets in the fewest Test matches. He has accomplished this feat in his 44th match by taking the wicket of Travis Head  سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کے نام ہے جنھوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے سپنر آر ایشون نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ The record of taking 200 wickets in the least number of Test matches is in the name of Pakistan's spinner Yasir Shah, who has achieved this feat in 33 Test matches, while Indian spinner R Ashwin has taken 200 wickets in 37 Test matches. جہاں تک فاسٹ بولروں کے سب سے کم ٹیسٹ میں 200 وکٹ لینے کا سوال ہے تو وقار یونس اور ڈینس للی کے نام یہ ریکارڈ ہے جنھوں نے 3...

آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو مسخرہ قرار دے دیا

 آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو مسخرہ قرار دے دیا جبکہ بھارتی میڈیا نے مسخرہ قرار دینا ویرات کوہلی کی بے عزتی کرنا کہا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ روز آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان باکسنگ ڈے ٹیسٹ کا پہلا روز تھا اور آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے 19 سالہ نوجوان بیٹر سیم کونسٹاس سے جان بوجھ کر ٹکرائیں اور اپنا کندھا انہیں مارا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیم کونسٹاس کے بھارتی بولر جسپریت بمرا کے خلاف غیر معمولی شاٹس کوہلی سے برداشت نہ ہوئے۔ انہوں نے کونسٹاس کا اعتماد اور توجہ ہٹانے کے لیے نہ صرف ان پر جملے کسے بلکہ جان بوجھ کر ٹکرا ئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویرات کوہلی پر 20 فیصد میچ کا جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کی سزا دی۔ مگر آسٹریلوی میڈیا ویرات کوہلی کو دی جانے والی سزا سے خوش نہیں تھا اور آسٹریلوی میڈیا نے کم ازکم ایک میچ کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ سابق آسٹریلوی کرکٹرز نے بھی ویرات کوہلی کو دی جانے والی سزا کو سخت قرار نہیں دیا۔ ایک آسٹریلوی اخبار نے مسخرہ کوہلی کی ہیڈ لائن لگائی ہے جبکہ ویرات کوہلی کے عمل پر اُنہیں بزدل اور رونے وال...