پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...
امریکہ نے دبائو ڈالا تو کیا پاکستان ٹرمپ کے سامنے جھک کر عمران کو رعایتیں دے گا یا ڈٹ کر کھڑا ہو جائے گا؟ بلاول کا بیانیہ یہ بتا رہا ہے کہ ریاست دبائو کی صورت میں ڈٹ سکتی ہے خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد پاکستان غیر متعلق ہو چکا تھا۔ امریکی تھنک ٹینکس کا خیال تھا کہ پاکستان قابل اصلاح نہیں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اس کا علاج صرف یہ ہے کہ یہ آکسیجن ٹینٹ میں رہے، نہ مرے نہ جیے، بس سانس لیتا رہے۔ معیشت کی رسی کس کر رکھی جائے تاکہ یہ خود ہی اپنی نیوکلیئر اور جہادی پالیسیوں سے توبہ تائب ہو جائے۔ جنرل باجوہ مغربی دنیا میں وقت گزار چکے تھے اس لئے انہوں نے اپنے دور میں مغربی دنیا کو ناراض کرنے والی پروچائنہ پالیسی کی رفتار کم کردی۔ جنرل باجوہ کے آنے سے پہلے پاکستان تیزی سے چینی کیمپ میں جا رہا تھا اور امریکہ کا خیال تھا کہ یہ برما کی طرح چینی کالونی یا سیٹلائٹ بننے جا رہا ہے چنانچہ باجوہ، عمران دور میں امریکی تحفظات دور کردیئے گئے، سی پیک پر توجہ اور ترجیح ختم کردی گئی اور امریکہ کے ساتھ معاملات میں بہتری آگئی لیکن امریکہ نے...