’پر میں پھنسا پرندہ۔۔۔‘ جنوبی کوریا کی تاریخ کا سب سے جان لیوا طیارہ حادثہ کیسے پیش آیا
اتوار کے روز جنوبی کوریا کے جنوب مغرب میں واقع موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نجی ایئر لائن کے مسافر طیارے کو ایک جان لیوا حادثہ پیش آیا جس میں 175 مسافر اور عملے کے چار ارکان سمیت 179 افراد ہلاک ہو گئے۔
تھائی لینڈ کے بینکاک ایئر پورٹ سے اڑان بھرنے والے جیجو ایئر کے بوئنگ 800-737 مسافر طیارے میں عملے کے چھ ارکان سمیت 181 افراد سوار تھے۔
حادثے میں صرف عملے کے دو اراکین، فلائٹ اٹینڈنٹ، ہی زندہ بچے ہیں جو کہ جہاز میں پیچھے کی جانب بیٹھے ہوئے تھے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور طیارے کے دونوں بلیک باکس یعنی فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گئے ہیں۔
دوسری جانب ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حادثے کی وجہ خراب موسم اور جہاز سے پرندے کا ٹکرانا ہو سکتا ہے
کیا واقعی کوئی پرندہ جہاز سے ٹکرایا تھا؟
جیجو ایئر جنوبی کوریا میں قدرے سستی ایئر لائن کے طور پر مشہور ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بوئنگ 800-737 تھا۔
طیارہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے موان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچا۔
آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لینڈنگ کے دوران جہاز رن وے سے پھسل کر ایک دیوار سے جا ٹکرایا۔
جنوبی کوریا کے ٹرانسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ جب طیارہ لینڈنگ کی کوشش کر رہا تھا، اسی وقت ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے پرندوں کے ٹکرانے کی وارننگ جاری کی گئی جس کی وجہ سے پائلٹ نے لینڈنگ مؤخر کردی۔
اہلکار کے مطابق تقریباً دو منٹ بعد ہی پائلٹ نے ’مے ڈے کال‘ دی جس کے بعد ایئر ٹریفک کمانڈ نے طیارے کو مخالف سمت سے اترنے کی اجازت دے دی
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لینڈنگ کے دوران جہاز کا لینڈنگ گیئر اور پہیے نہیں کھلے اور جہاز پھسلتا ہوا دیوار سے جا ٹکرایا جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
جنوبی کوریا کے مقامی میڈیا کے مطابق حادثے سے قبل طیارے پر سوار ایک مسافر نے اپنے گھر کے ایک فرد کو ٹیکسٹ پیغام بھیجا کہ ’جہاز کے پر میں ایک پرندہ پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے طیارہ لینڈ نہیں کر پا رہا۔‘
موان کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لی جیونگ ہیون کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد طیارے کی دم تو سالم حالت میں ملی ہے لیکن طیارے کا بقیہ حصہ قابلِ شناخت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حادثہ پرندے کے طیارے سے ٹکرانے اور خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا۔

Comments
Post a Comment