https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-5180289520538836/sites/detail/url=punjabupdatesnews4.blogspot.com چکوال کے گاؤں ’گاہ‘ کا ’موہنا‘ جس کے بچپن کے دوست اُس کی راہ ہی تکتے رہ گئے Skip to main content

کیا سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ کے پاکستان آنے سے ٹکٹ سستے ہو جائیں گے؟

  سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ فروری 2025 سے پاکستان کے لیے اپنے آپریشنز کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ 2021 میں سعودی عرب میں شروع ہونے والی ایک بجٹ اور سستی ایئر لائن ہے جس نے گذشتہ برس پاکستانی عازمین حج کے لیے بھی اپنی سروسز فراہم کی تھیں اور فی الحال بین الاقوامی سطح پر اس کے سعودی عرب کے علاوہ مختلف ممالک میں آپریشنز جاری ہیں۔ ’فلائی آ ڈیل‘ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر اپنے آپریشنز کو بڑھانے کا ایک وسیع سلسلہ ہے اور یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے پہلی باقاعدہ سروس کی شروعات ہو گی۔ ای ئ ر لائن کی ویب سائٹ کے مطابق  تین فروری کو پہلی فلائٹ جدہ سے پاکستان کے کراچی ایئر پورٹ کے لیے مقامی وقت   رات دو بج کر 45 منٹ پر پرواز کرے گی۔ پاکستان میں سول ایوی ایشن کے ترجمان اور ڈائریکٹر ایوی ایشن سکیورٹی شاہد قادرنے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ’فلائی آ ڈیل‘ کو پاکستانی حکام کی طرف سے اجازت نامہ مل چکا ہے اور وہ ہفتے میں دو دن کراچی اور دو دن لاہور سے  جدہ اور ریاض کے لیے اپنی سروسز فراہم کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ نئی سروس اس بات کی علامت ہے...

چکوال کے گاؤں ’گاہ‘ کا ’موہنا‘ جس کے بچپن کے دوست اُس کی راہ ہی تکتے رہ گئے



گاہ کے ’موہنا‘ نہ رہے۔۔۔ بڑ کے درخت کے نیچے گلی ڈنڈا، کنچے اور کبڈی کھیلتے اُن کے بچپن کے دوست ہی انھیں اس نام سے پکارتے تھے۔ ورنہ جب وہ سنہ 1932 میں برطانوی ہندوستان کے ضلع جہلم کے گاؤں میں کپڑے کے دکاندار گرُمکھ سنگھ اور اُن کی اہلیہ امرت کور کے ہاں پیدا ہوئے تو اُن کا نام منموہن سنگھ رکھا گیا تھا۔


اب یہ گاؤں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے 100 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ضلع چکوال کا حصہ ہے۔


جب سنہ 2004 میں منموہن سنگھ انڈیا کے وزیراعظم بنے اور اگلے دس سال اسی عہدے پر رہے اور کئی معاشی اصلاحات کیں، تو گویا شاہ ولی اور راجا محمد علی جیسے گاہ میں رہنے والے اُن کے کئی دوستوں کے لیے ان کے ساتھ گزرے دنوں کی یادیں امڈ آئی تھیں ۔


ماہر سماجیات جارج میتھیو اُسی سال (2004 میں) ’گاہ‘ گئے تھے۔

تب سماجی تنظیم پتن کے نمائندے کے طورپرڈاکٹرعبدالصبور جارج میتھیو کے ہمراہ تھے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2004 میں سماجی تنظیم پتن نے انڈیا کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(آئی ایس ایس) کے ساتھ مل کر کونسلرزکے لیے ایکسچینج پروگرام ترتیب دیے تھےجس میں ان کی قیادت میں پاکستانی وفد میں گاہ گاؤں سے ایک کونسلر بھی انڈیا گئے تھے اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کے لیے گاؤں سے کُھسے بھی بنوا کر لے گئے تھے۔ ان سے ملاقات تو نہیں ہو پائی تھی لیکن یہ دیسی جوتے وزیراعظم ہاؤس کو ہم نے دے دیے تھے۔


سال کے آخر میں آئی ایس ایس سے منسلک جارج میتھیو کونسلرز کا وفد لے کر آئے تھے۔ عبدالصبور نے مجھے بتایا کہ گاؤں والوں نے چائے کے ساتھ جلیبی پیش کی تھی اور من موہن سنگھ کے سکول کے ہیڈماسٹر نے ان سے متعلق سکول ریکارڈ دکھایا تھا۔


ٹربیون انڈیا میں لکھے گئے جارج میتھیو کے مضمون کے مطابق یہاں سکول رجسٹر کے مطابق منموہن سنگھ کا نمبر 187 تھا، والد کا نام: گرمکھ سنگھ؛ ذات: [پنجابی کھتری] کوہلی: پیشہ: دکاندار: اور داخلے کی تاریخ 17 اپریل 1937 درج ہے۔


گاؤں میں منموہن سنگھ کے دوست شاہ ولی نے جارج میتھیو کو بتایا کہ ’دو کچے کمروں کے سکول میں تقریباً 100 طالب علم تھے۔‘اس سکول کی موجودہ عمارت کئی سال بعد بنی

،تصویر کا کیپشنضلع چکوال کے گاؤں ’گاہ‘ کا ایک منظر

شاہ ولی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے استاد دولت رام اور ہیڈ ماسٹر عبدالکریم تھے۔ بچیاں اور بچے اکٹھے پڑھتے تھے۔‘


ٹربیون پاکستان میں چھپے ایک مضمون کے مطابق اُن کے دوست غلام محمد خان نے خبر رساں اے ایف پی کو بتایا کہ ’موہنا ہماری کلاس کے مانیٹر تھے اور ہم اکٹھے کھیلتے تھے۔‘


ان کا کہنا تھا ’وہ ایک شریف اور ذہین بچہ تھا۔ ہمارے استاد نے ہمیشہ ہمیں مشورہ دیا کہ اگر ہم کچھ سمجھ نہ پائیں تو ان کی مدد حاصل کریں۔‘


چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد من موہن اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے گاؤں سے 25 کلومیٹر دور چکوال چلے گئے اور 1947 میں برطانوی ہندوستان کی انڈیا اور پاکستان میں تقسیم سے کچھ عرصہ قبل امرتسر چلے آئے۔


اور یوں اُن کے گاؤں کے دوست شاہ ولی انھیں پھر کبھی نہ مل سکے۔ البتہ منموہن سنگھ کی دعوت پر ان کے بچپن کے دوست راجا محمد علی سنہ 2008 میں اُن سے ملے تھے۔ بعدازاں سنہ 2010 میں راجا محمد علی کی وفات ہو گئی تھی۔


Comments

Popular posts from this blog

انڈیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو پاکستان اور بابر اعظم سے امیدیں

 عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔ انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان  دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے می...

عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence

 انڈین کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے انڈین فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ کارنامہ اپنے 44 ویں میچ میں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ لے کر انجام دیا ہے۔ Indian cricket team's fast bowler Jasprit Bumrah has become the first Indian fast bowler to take 200 wickets in the fewest Test matches. He has accomplished this feat in his 44th match by taking the wicket of Travis Head  سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کے نام ہے جنھوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے سپنر آر ایشون نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ The record of taking 200 wickets in the least number of Test matches is in the name of Pakistan's spinner Yasir Shah, who has achieved this feat in 33 Test matches, while Indian spinner R Ashwin has taken 200 wickets in 37 Test matches. جہاں تک فاسٹ بولروں کے سب سے کم ٹیسٹ میں 200 وکٹ لینے کا سوال ہے تو وقار یونس اور ڈینس للی کے نام یہ ریکارڈ ہے جنھوں نے 3...

آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو مسخرہ قرار دے دیا

 آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو مسخرہ قرار دے دیا جبکہ بھارتی میڈیا نے مسخرہ قرار دینا ویرات کوہلی کی بے عزتی کرنا کہا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ روز آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان باکسنگ ڈے ٹیسٹ کا پہلا روز تھا اور آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے 19 سالہ نوجوان بیٹر سیم کونسٹاس سے جان بوجھ کر ٹکرائیں اور اپنا کندھا انہیں مارا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیم کونسٹاس کے بھارتی بولر جسپریت بمرا کے خلاف غیر معمولی شاٹس کوہلی سے برداشت نہ ہوئے۔ انہوں نے کونسٹاس کا اعتماد اور توجہ ہٹانے کے لیے نہ صرف ان پر جملے کسے بلکہ جان بوجھ کر ٹکرا ئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویرات کوہلی پر 20 فیصد میچ کا جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کی سزا دی۔ مگر آسٹریلوی میڈیا ویرات کوہلی کو دی جانے والی سزا سے خوش نہیں تھا اور آسٹریلوی میڈیا نے کم ازکم ایک میچ کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ سابق آسٹریلوی کرکٹرز نے بھی ویرات کوہلی کو دی جانے والی سزا کو سخت قرار نہیں دیا۔ ایک آسٹریلوی اخبار نے مسخرہ کوہلی کی ہیڈ لائن لگائی ہے جبکہ ویرات کوہلی کے عمل پر اُنہیں بزدل اور رونے وال...