https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-5180289520538836/sites/detail/url=punjabupdatesnews4.blogspot.com محکمہ ٹرانسپورٹ کی چیک پوسٹس کے درجنوں ٹھیکے حاصل کرنے والے ایک کانسٹیبل کی کہانی۔ انکم ٹیکس حکام کو بھی علم نہیں تھا کہ آئندہ دنوں میں سامنے آنے والی تفصیلات اور ہاتھ لگنے والا خزانہ اتنا بڑا ہو گا۔ Skip to main content

عمران خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک سوال

 پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...

محکمہ ٹرانسپورٹ کی چیک پوسٹس کے درجنوں ٹھیکے حاصل کرنے والے ایک کانسٹیبل کی کہانی۔ انکم ٹیکس حکام کو بھی علم نہیں تھا کہ آئندہ دنوں میں سامنے آنے والی تفصیلات اور ہاتھ لگنے والا خزانہ اتنا بڑا ہو گا۔

52 کلو سونا، 230 کلو چاندی اور کروڑوں کی نقدی: ایک کانسٹیبل سے ہونے والی برآمدگی جس پر انکم ٹیکس حکام بھی حیران ہیں



گذشتہ ہفتے جب انڈین ریاست مدھیہ پردیش میں جب انکم ٹیکس حکام نے ایک سرکاری اہلکار سوربھ شرما اور اُن کے دوست چیتن سنگھ کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا تو شاید انھیں علم نہیں تھا کہ آئندہ دنوں میں اس کیس سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات اور حکام کے ہاتھ لگنے والا خزانہ اتنا بڑا ہو گا۔


سرکاری حکام نے ایک آپریش کے دوران گذشتہ ہفتے ان دونوں دوستوں کے قبضے سے 52 کلو سونا، 230 کلو چاندی اور 17 کروڑ روپے نقد برآمد کیے ہیں۔


محکمہ انکم ٹیکس اِس وقت چیتن سے اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہا ہے جبکہ مرکزی ملزم سوربھ مفرور ہیں اور اُن کی تلاش جاری ہے۔


سوربھ نے سنہ 2016 میں بطور کانسٹیبل مدھیہ پریش کے محکمہ ٹرانسپورٹ میں ملازمت حاصل کی تھی۔ قلیل عرصے میں کروڑوں روپے کے مالک بن جانے والے سوربھ کی زندگی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے۔

ڈرامائی چھاپہ اور کروڑوں کی برآمدگی

20 دسمبر (جمعرات) کی رات کو بھوپال کے ایک جنگل میں حکام کو ایک کار لاوارث حالت میں کھڑی ملی۔ محکمہ انکم ٹیکس کو اس کار کی موجودگی کی اطلاع دی گئی کیونکہ یہ کار انھیں ایک تفتیش کے سلسلے میں مطلوب تھی۔ کار کی تلاشی لی گئی تو اس سے 52 کلو سونا اور 10 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔


جب اس کار کی نمبر پلیٹ کو چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ چیتن سنگھ نامی شخص کی ملکیت ہے۔


انڈین حکام کو اس بات کا علم تھا کہ چیتن مدھیہ پردیش میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے کانسٹیبل سوربھ کے ساتھی ہیں۔ پارلیمانی محتسب نے پھر سوربھ اور چیتن کے گھروں پر چھاپے مارے اور وہاں سے انھوں نے مزید 230 کلو چاندی اور کروڑوں روپے نقد برآمد کیے۔


جیدیپ پرساد کہتے ہیں کہ ’ہمیں کانسٹیبل سوربھ شرما کے خلاف شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ ہم نے پہلے ان شکایات کی تصدیق کی اور پھر عدالت سے تلاشی کے وارنٹ حاصل کیے۔‘


’اس کے بعد سوربھ شرما کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں چیتن سنگھ کا دفتر بھی واقع ہے۔‘


پارلیمانی محتسب کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ سوربھ ابھی بھی روپوش ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

سوربھ: محکمہ ٹرانسپورٹ میں بھرتی ہونے والا کانسٹیبل

سوربھ شرما کی پیدائش مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی تھی اور انھیں محکمہ ٹرانسپورٹ میں ملازمت اپنی والد کی جگہ اس وقت ملی تھی جب دوران سروس سنہ 2016 میں اُن کی وفات ہوئی۔


سوربھ کے والد اپنی موت سے قبل مدھیہ پردیش کے محکمہ صحت میں ملازمت کر رہے تھے لیکن وہاں کوئی اسامی خالی نہیں تھی چنانچہ سرکار نے اُن کے بیٹے سوربھ کو محکمہ ٹرانسپورٹ میں ملازمت دے دی۔


محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ صرف سات برسوں میں سوربھ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کی چیک پوسٹس کے درجنوں ٹھیکے لیے اور بےتحاشہ دولت اکھٹی کرنے میں کامیاب ہوئے۔

Comments

Popular posts from this blog

عمران خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک سوال

 پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...

عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence

 انڈین کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے انڈین فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ کارنامہ اپنے 44 ویں میچ میں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ لے کر انجام دیا ہے۔ Indian cricket team's fast bowler Jasprit Bumrah has become the first Indian fast bowler to take 200 wickets in the fewest Test matches. He has accomplished this feat in his 44th match by taking the wicket of Travis Head  سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کے نام ہے جنھوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے سپنر آر ایشون نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ The record of taking 200 wickets in the least number of Test matches is in the name of Pakistan's spinner Yasir Shah, who has achieved this feat in 33 Test matches, while Indian spinner R Ashwin has taken 200 wickets in 37 Test matches. جہاں تک فاسٹ بولروں کے سب سے کم ٹیسٹ میں 200 وکٹ لینے کا سوال ہے تو وقار یونس اور ڈینس للی کے نام یہ ریکارڈ ہے جنھوں نے 3...

انڈیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو پاکستان اور بابر اعظم سے امیدیں

 عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔ انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان  دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے می...