امریکہ اور برطانیہ کا پاکستان میں فوجی عدالتوں سے عام شہریوں کو سزا سنائے جانے پر اظہارِ تشویش
پاکستان میں 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائے جانے پر امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق برطانوی حکومت ملک میں ہونے والی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے تاہم فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہوتا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں کارروائی سے منصفانہ ٹرائل کے حق کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں نبھائے۔‘
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی اور شفافیت کی ضمانت کا فقدان ہوتا ہے۔
’امریکہ پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتا ہے پاکستان کے آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کے حق کا احترام کیا جائے۔‘
فوجی عدالتیں کیا ہیں اور ان میں عام شہریوں کے خلاف
اس سے قبل یورپی یونین کی جانب سے پاکستان میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے منافی ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کا دستخط کنندہ ہے اور فوجی عدالتوں کے فیصلے اس معاہدے کے تحت پاکستان پر لاگو ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ 21 دسمبر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

Comments
Post a Comment