پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...
نومبر سازش کے پیچھے سیاسی دہشتگردی کی سوچ تھی‘:
پاکستانی فوج کے ترجمان کی پی ٹی آئی پر تنقید
پاکستانی فوج نے رواں برس نومبر میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پُرتشدد احتجاج کو ’سیاسی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتجاج 2014 میں پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں کی عمارتوں اور 9 مئی کے پُرتشدد واقعات ’منفی سیاست اور تشدد کا سلسلہ‘ ہے۔

Comments
Post a Comment