گرینل ایک امریکی سفارت کار ہیں اور انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے کافی نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران گرینل نے نیشنل انٹیلی جنس کے قائم مقام ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ نیشنل انٹیلی جنس کی تاریخ کے پہلے ہم جنس پرست ڈائریکٹر تھے۔ گرینل دنیا بھر میں ایل جی بی ٹی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بننے سے قبل 2018 میں گرینل کو جرمنی میں امریکہ کے سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ انھوں نے 2019 سے 2021 تک سربیا اور کوسوو امن مذاکرات میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت میں گرینل اقوام متحدہ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ووٹنگ ممبر تھے۔
گرینل کی ویب سائٹ فکس کیلیفورنیا کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے ’ہم جنس پرستی کو فروغ دینے‘ کے الزام میں ان کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔
گرینل کو امریکہ کی قومی سلامتی کا سب سے بڑا اعزاز نیشنل سکیورٹی میڈل ملا تھا۔ انھیں کوسوو اور سربیا سے ملک کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر ملا ہے۔
روئٹرز کے مطابق پانچ نومبر کے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ رچرڈ گرینل کو وزیر خارجہ کا عہدہ مل سکتا ہے تاہم یہ عہدہ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کو ملا ہے۔
یوکرین جنگ کے خصوصی ایلچی کے عہدے کے لیے ان کے نام پر غور کیا گیا تھا تاہم یہ عہدہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کیتھ کیلوگ کو ملا۔

Comments
Post a Comment