https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-5180289520538836/sites/detail/url=punjabupdatesnews4.blogspot.com عمران خان پر بھی ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ٹرمپ پر لگائے گئے، میں چاہوں گا انھیں رہا کر دیا جائے: رچرڈ گرینل Skip to main content

عمران خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک سوال

 پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...

عمران خان پر بھی ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ٹرمپ پر لگائے گئے، میں چاہوں گا انھیں رہا کر دیا جائے: رچرڈ گرینل



 امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرینل سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘


پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکہ کے خدشات کے حوالے سے منگل کے روز امریکہ میں نیوز میکس کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا آنے والی انتظامیہ میں ٹرمپ کے نامزد سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو جس امور پر کام کریں گے، یہ ان کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کی صلاحیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم ان سے کیسے نمٹیں گے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پچھلے دورِ صدارت میں جب عمران خان وہاں کے حکمران تھے تو ہمارے پاکستان کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات تھے۔


عمران خان کو ’ٹرمپ جیسا لیڈر‘ کہنے والے رچرڈ گرینل جنھیں ٹرمپ نے صدارتی ایلچی نامزد کیا


ان کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ عمران خان ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک کرکٹر تھے اور وہ ایسی زبان میں بات کرتے تھے جو زیادہ قابلِ فہم تھی اور ٹرمپ کے ان کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ ایسے لوگ جو سیاستدان نہ ہوں، جن میں کامن سینس ہو اور جو کاروباری صلاحیتیں رکھتے ہوں وہ زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔‘


ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ وہ فی الحال جیل میں قید ہیں اور ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘


میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ’کیا آپ عمران خان کے متعلق جو آگاہی پھیلا رہے ہیں (مثلاً ایکس وغیرہ پر)، اس کے نتیجے میں وہ رہا ہو سکتے ہیں؟انھوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا کہ ’پاکستان کو ان امور کی فہرست میں شامل کر لیں جس پر صدر جو بائیڈن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان آخری 45 دنوں میں پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ پچھلے چار سال میں انھوں نے اس پر کچھ نہیں کیا۔‘


’چار سال تک انھوں نے جن مسائل پر کوئی بات نہیں کی اب وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں ان سب کی پرواہ ہے، وہ ان کے بارے میں عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں اور پاکستان بھی ان مسائل میں شامل ہے۔‘

Comments

Popular posts from this blog

عمران خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک سوال

 پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاست دان نہیں رہتے بلکہ ایک دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ایک کرکٹر کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ کا عالمی کپ جتوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ سیاست کی طرف موڑا اور ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جس نے پاکستان کے روایتی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ’’تبدیلی‘‘ اور احتساب کا بیانیہ رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا رہا، جبکہ ان کے ناقدین ان کی سیاست اور حکومتی کارکردگی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ 2018 میں عمران خان پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی حکومت کے دوران معیشت، خارجہ پالیسی، ریاستِ مدینہ کے تصور اور احتساب جیسے موضوعات مسلسل قومی بحث کا حصہ رہے۔ 2022 میں ان کی حکومت ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت ختم ہونے کے بجائے مزید ایک بڑے سیاسی تنازعے میں تبدیل ہوگئی۔ آج عمران خان کی کہانی...

عجیب ایکشن والا‘ انڈین بولر جس کی قسمت ایک اتفاق نے بدل دیIndian bowler whose fate was changed by a coincidence

 انڈین کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے انڈین فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ کارنامہ اپنے 44 ویں میچ میں ٹریوس ہیڈ کی وکٹ لے کر انجام دیا ہے۔ Indian cricket team's fast bowler Jasprit Bumrah has become the first Indian fast bowler to take 200 wickets in the fewest Test matches. He has accomplished this feat in his 44th match by taking the wicket of Travis Head  سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کے نام ہے جنھوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے سپنر آر ایشون نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ The record of taking 200 wickets in the least number of Test matches is in the name of Pakistan's spinner Yasir Shah, who has achieved this feat in 33 Test matches, while Indian spinner R Ashwin has taken 200 wickets in 37 Test matches. جہاں تک فاسٹ بولروں کے سب سے کم ٹیسٹ میں 200 وکٹ لینے کا سوال ہے تو وقار یونس اور ڈینس للی کے نام یہ ریکارڈ ہے جنھوں نے 3...

انڈیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو پاکستان اور بابر اعظم سے امیدیں

 عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔ انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان  دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے می...