عمران خان پر بھی ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ٹرمپ پر لگائے گئے، میں چاہوں گا انھیں رہا کر دیا جائے: رچرڈ گرینل
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرینل سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘
پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکہ کے خدشات کے حوالے سے منگل کے روز امریکہ میں نیوز میکس کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا آنے والی انتظامیہ میں ٹرمپ کے نامزد سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو جس امور پر کام کریں گے، یہ ان کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کی صلاحیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم ان سے کیسے نمٹیں گے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پچھلے دورِ صدارت میں جب عمران خان وہاں کے حکمران تھے تو ہمارے پاکستان کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات تھے۔
عمران خان کو ’ٹرمپ جیسا لیڈر‘ کہنے والے رچرڈ گرینل جنھیں ٹرمپ نے صدارتی ایلچی نامزد کیا
ان کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ عمران خان ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک کرکٹر تھے اور وہ ایسی زبان میں بات کرتے تھے جو زیادہ قابلِ فہم تھی اور ٹرمپ کے ان کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ ایسے لوگ جو سیاستدان نہ ہوں، جن میں کامن سینس ہو اور جو کاروباری صلاحیتیں رکھتے ہوں وہ زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ وہ فی الحال جیل میں قید ہیں اور ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘
میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ’کیا آپ عمران خان کے متعلق جو آگاہی پھیلا رہے ہیں (مثلاً ایکس وغیرہ پر)، اس کے نتیجے میں وہ رہا ہو سکتے ہیں؟انھوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا کہ ’پاکستان کو ان امور کی فہرست میں شامل کر لیں جس پر صدر جو بائیڈن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان آخری 45 دنوں میں پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ پچھلے چار سال میں انھوں نے اس پر کچھ نہیں کیا۔‘
’چار سال تک انھوں نے جن مسائل پر کوئی بات نہیں کی اب وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں ان سب کی پرواہ ہے، وہ ان کے بارے میں عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں اور پاکستان بھی ان مسائل میں شامل ہے۔‘
.jpeg)
Comments
Post a Comment