حارث رؤف،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشن فیصلہ سازی کی یہ غلطی اس تھنک ٹینک سے اسی سوچ کی بنا پہ ہوئی کہ وہ کسی بھی وینیو کی طرح یہاں بھی 10 وکٹیں لینے کی صلاحیت رکھتے تھے
مضمون کی تفصیل
مصنف,سمیع چوہدری
عہدہ,کرکٹ تجزیہ کار
6 گھنٹے قبل
کسی بھی پلان کے موثر رہنے کو ضروری ہے کہ وہ اپنی حیرت کا خاصہ برقرار رکھے۔ اس میں کچھ ایسی اجنبیت ضرور باقی رہنا چاہیے جو کسی ایک لمحے کی نا مانوسی کا فائدہ اٹھا کر کھیل کا دھارا بدل سکے۔
ہر پچ 10 وکٹیں پیدا کرنے والی نہیں ہوتی۔ ہر باؤنسی ٹریک پہ شارٹ پچ کارگر نہیں ہو سکتی۔ ہر بیٹنگ پچ پہ پیسرز کی چینج آف پیس رنگ نہیں بکھیر سکتی۔ اور کسی بھی وینیو پہ کوئی بھی سٹریٹیجی اس تواتر سے نہیں دہرائی جانا چاہیے کہ وہ اپنی تاثیر ہی کھو بیٹھے۔
بجا کہ پاکستانی مڈل آرڈر کو زیادہ مثبت اپروچ اپنانا چاہیے تھی، بجا کہ مڈل اوورز کی سست روی پاکستان کو ایک متوقع مجموعے سے پیچھے چھوڑ گئی، بجا کہ مڈل آرڈر کی ناتجربہ کاری جنوبی افریقی بولنگ کے سامنے تر نوالہ ٹھہری۔ مگر پھر بھی جو مجموعہ پاکستان کے ہاتھ تھا، وہ اس بولنگ اٹیک کے ہمراہ قابلِ دفاع تھا۔
صائم ایوب نے ایک بار پھر پاکستان کو اس اعتماد اور تسلسل کا صلہ دیا جو ان کے انتخاب میں برتا گیا ہے۔ جونھی وہ پچ کی رفتار سے ہم آہنگ ہوئے، جنوبی افریقی بولرز پہ عرصۂ حیات محدود ہونے لگا کہ آخر اس پچ پہ وہ کون سا ایسا کونا ڈھونڈیں جو صائم کے بلے کی یلغار
سے محفوظ ہو۔

Comments
Post a Comment