وسعت اللہ خان
عہدہ,صحافی و تجزیہ
اس برس مئی میں بری فوج کے فارمیشن کمانڈرز کی 83ویں کانفرنس میں پہلی بار سوشل میڈیا پر آزادیِ اظہار کے پردے میں ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کا ذکر ہوا اور اسے لگام دینے کے لیے سخت قوانین بنانے کا مطالبہ ہوا۔
نومبر میں فارمیشن کمانڈرز کی 84ویں کانفرنس نے بھی یہ مطالبہ دہرایا۔ جبکہ مئی اور نومبر کے درمیانی مہینوں میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے تقریباً ہر خطاب میں سوشل میڈیا کی بے راہ روی کے لتے لیے۔
اگر عسکری قیادت کی جانب سے متواتر یہ مطالبہ نہ بھی ہوتا تب بھی پاکستان میں آزادیِ اظہار اور ڈیجیٹل آزادی کے بارے میں متعلقہ بین الاقوامی فورمز کی رائے میں پاکستان کا ریکارڈ ویسا ہی ہے جیسا کہ مقتدر حلقے چاہتے ہیں۔
مثلاً صحافیوں کی سرکردہ بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی موجودہ برس کی پریس فریڈم انڈیکس میں شامل امریکی تھنک ٹینک ’فریڈم ہاؤس‘ کی بہتر ممالک پر مشتمل تازہ انڈیکس میں انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے جن آٹھ شرائط کو بنیادی کسوٹی قرار دیا گیا، پاکستان اُن میں سے سات شرائط پر پورا نہیں اُترتا۔
فریڈم ہاؤس انڈیکس میں پاکستان کو چین، ترکمانستان، اریٹیریا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت اُن 21 ممالک کی فہرست میں ڈالا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ ٹریفک پر سب سے زیادہ پابندیاں ہیں۔
ہم چاہیں تو باآسانی رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز اور فریڈم ہاؤس کی رپورٹوں کو متعصبانہ قرار دے کر مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان نے خود انٹرنیٹ پر بے مہار آزادی اور غیر ذمہ دارانہ و خطرناک مواد کو لگام دینے کے لیے ایک جامع ضابطہ ’پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016‘ ( پیکا) نافذ کر رکھا ہے۔
اس ایکٹ کو نوکیلے دانت دینے کے لیے رواں برس میں مبینہ فائر وال کا بھی اضافہ کیا گیا تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حسبِ ضرورت معطل، سست یا کنٹرول کیا جا سکے۔180 ممالک میں پاکستان کا نمبر 152 ہے۔

Comments
Post a Comment